You are currently viewing Palestinian Issue: Literary, Political and Global Aspects!

Palestinian Issue: Literary, Political and Global Aspects!

KARACHI: Federal Urdu University’s Dept of Urdu has organised a discussion here titled Palestinian Issue: Literary, Political and Global Aspects!

Mazhar Abbas, Anwar Sun Rai, Farasat Rizvi, Sabir Abu Maryam and Taban Zafar spoke on the occasion.

Dr. Asghar Dashti, President Dept of International Relations moderated the event.

Ceremony began with the recitation of the Holy Quran.

The discussion commenced with Saber Abu Maryam’s speech.

He said: “The land of Palestine is sacred for all religions.

“For us all prophets are honorable.

“This fight is not between Muslims and Jews.

“This is not a war but a conspiracy against Islam.

“Every country has the right to defend itself, but this right was also taken away from the Palestinians.

“The irony of history is that the world powers created Israel by occupying their land without the intention of the Palestinians.

“And keep on propagandizing that the Palestinians have sold their land.

“While they were forcibly evicted from their land.

There will be no peace in Palestine without justice”.

Anwar Sun Rai held: “A lot of work has been done on the Palestine issue in Urdu literature.

The human side of any problem is seen in literature.

A writer from any region of the world cannot ignore the problem of Palestine.

“We left the Palestinians alone.

Shedding tears and raising emotional slogans in favor of the Palestinians will not solve the problem.

We have to live in the world of reality and go for practical and political struggle.

Mazhar Abbas noted that well-known writer Edward Saeed was a Christian but practically participated in the war for the cause of Palestine.

It is necessary to read his book to understand the Palestinian issue.

Where there was resistance, resistance literature also arose.

The collapse of the Soviet Union proved to be the death knell for resistance organizations.

Today we have to become an ally of America even if we don’t want to.

Palestine is alone today.

Hamas and Hezbollah will also succeed if they have political support.

The problem of Palestine seems to be moving towards a two-state solution.

The Modus Operandi of Hamas can be disputed, but it is actually fighting for its freedom, not taking away the freedom of anyone else.

It is necessary to stop the human tragedy arising from this war.”

Farasat Rizvi, while responding to queries held: “There are two sides to the Palestine problem, one is human and the other is Islamic.

Jews are trying to have Greater Israel.

Muslims today have no leader.

OIC is a failed platform.

The Arab League has also done nothing for the Palestinians.”

Taban Zafar maintained: “The problem of Palestine is not Islamic but human.

Did Hamas have an idea of what the response to this attack could be?

Hamas should have thought that the response will be extreme in which children, elderly, women and ordinary people will be killed.

Twenty thousand ordinary people have been killed.

This tragedy should be stopped as soon as possible.”

Dr. Farasat Rizvi, head of Sara Foundation Sabiha Akhlaq, and MPhil scholar Khalid Hussain recited selected verses focused on Palestine.

Towards the end President of Urdu Dept Dr. Yasmin Sultana thanked the participants.

Stressing on the topic’s importance she pointed out that Federal Urdu University’s Dept. of Urdu had always organized events on such issues.

“The purpose of the talks is to express solidarity and awareness by discussing various aspects of the Palestinian issue”.

_______________________________________

وفاقی اردو یونیورسٹی شعبہ اردو کے زیر اہتمام ”مسئلہ فلسطین: ادبی ،سیاسی و عالمی جہات “کے عنوان سے مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔

مذاکرے کے شرکاء میں معروف صحافی مظہر عباس،صحافی و ادیب انور سن رائے، مصنف و شاعر فراست رضوی،صحافی و سیاسی  وسماجی شخصیت صابر ابو مریم اور صحافی تابان ظفر شامل تھے۔

موڈریٹر کے فرائض صدر شعبہ بین الاقوامی تعلقات،وفاقی اردو یونیورسٹی ڈاکٹر اصغر دشتی نے انجام دیے۔

نظامت ایم فل اسکالرز انیلہ تبسم اور منظور احمد نے کی

تقریب کی سرپرستی صدر شعبہ اردو ،رٸیس کلیہ لسانیات ڈاکٹر یاسمین سلطانہ کررہی تھیں۔

۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ مذاکرے کا آغاز صابر ابو مریم کی گفتگو سے ہوا ان کا کہنا تھا کہ سرزمین فلسطین تمام مذاہب کے لیے مقدس ہے۔ ہمارے لیے تمام انبیاءقابلِ احترام ہیں۔ یہ لڑائی مسلمانوں اور یہودیوں کی نہیں ہے۔

یہ جنگ نہیں اسلام کےخلاف سازش ہے۔ ہر ملک کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے مگر فلسطینیوں سے یہ حق بھی چھین لیا گیا۔ تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ عالمی طاقتوں نے فلسطینیوں کی منشاء کے بغیر ان کی زمین پر قبضہ کرکے اسرائیل بنایا۔

اور پراپیگنڈا کرتے رہے کہ فلسطینیوں نے اپنی زمینیں بیچی ہیں۔ جبکہ انھیں ان کی زمین سے زبردستی نکالا گیا۔ انصاف کے بغیر فلسطین میں امن قائم نہیں ہوگا۔ انور سن رائے کا کہنا تھا کہ اردو ادب میں مسئلہ فلسطین پر بہت کام ہوا ہے۔

ادب میں کسی بھی مسئلے کے انسانی پہلو کو دیکھا جاتا ہے۔ادیب دنیا کے کسی بھی خطے سے ہو وہ مسئلہ فلسطین سے چشم پوشی اختیار نہیں کرسکتا۔

ان کا کہنا تھاکہ فلسطینیوں کو ہم نے تنہا چھوڑ دیا۔ فلسطینیوں کے حق میں آنسو بہانے اور جذباتی نعرے لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ حقیقت کی دنیا میں رہ کر عملی و سیاسی جدوجہد کرنی ہوگی۔

مذاکرے میں اظہار خیال کرتے ہوئے معروف صحافی مظہر عباس نے کہا کہ معروف ادیب ایڈورڈ سعید مذہباؒ عیسائی تھے لیکن فلسطین کاز کے لیے  عملی طور پرجنگ میں حصہ لیا۔

مسئلہ فلسطین کو سمجھنے کے لیے ان کی کتاب پڑھنی ضروری ہے۔ جہاں مزاحمت ہوئی وہاں مزاحمتی ادب بھی پیدا ہوا۔ سوویت یونین کا ٹوٹنا مزاحمتی تنظیموں کی موت ثابت ہوا۔ آج ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی امریکہ کا اتحادی بننا ہے ۔

فلسطین آج تنہا ہے۔ حماس اور حزب اللہ بھی تب کامیاب ہوں گے جب انھیں سیاسی حمایت حاصل ہو۔ مسئلہ فلسطین دو ریاستی حل  کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔حماس کے طریقہ کار پر اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر وہ دراصل اپنی آزادی کی لڑائی لڑ رہی ہے کسی کی اور کی آزادی سلب نہیں کررہی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جنگ سے پیدا ہونیوالے انسانی المیے کو روکا جائے ۔

معروف مصنف اور شاعر فراست رضوی نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کے دو پہلو ہیں ایک انسانی اور دوسرا اسلامی۔ یہودی دراصل تابوت  سکینہ پر دسترس چاہتے ہیں۔

اور گریٹر اسرائیل کے حصول کی کوشش میں ہیں۔آج مسلمانوں کو کوئی لیڈر نہیں۔ او آئی سی ناکام پلیٹ فارم ہے۔

عرب لیگ نے بھی فلسطینیوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔

معروف صحافی تابان ظفر نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ اسلامی نہیں بلکہ انسانی ہے۔ کیا حماس کو اندازہ تھا کہ اس حملے کا ردعمل کیا ہوسکتا ہے ؟

حماس کو سوچنا چاہیے تھا کہ ردعمل انتہاٸی ہوگا جس میں بچے ،بزرگ، عورتیں عام لوگ مارے جاٸیں گے۔

بیس ہزار عام لوگ شہید ہوچکے ہیں ۔اس المیے کو جلد از جلدروکنا ہوگا۔

تقریب میں ڈاکٹر فراست رضوی ،سارا فاونڈیشن کی سربراہ صبیحہ اخلاق، اور ایم فل اسکالر خالد حسین نے فلسطین کے حوالے سے نظمیں پڑھیں۔

مذاکرے کے اختتام پر صدر شعبہ اردو اور رٸیس کلیہ لسانیات ڈاکٹر یاسمین سلطانہ نے مہمان شرکاء  سے اظہار تشکر کرتے کہا کہ مسئلہ فلسطین ایک سلگتا ہوا موضوع ہے۔

شعبہ اردو نے ہمیشہ اس نوعیت کے موضوعات پر تقریبات کا اہتمام کیا ہے۔ مذاکرے کا مقصد مسئلہ فلسطین کے مختلف پہلووں کو زیرِ بحث لاتے ہوئے اظہار یکجہتی اور آگاہی فراہم کرنا ہے۔

  اختتام پر ڈاکٹر یاسمین سلطانہ نے مذاکرے کے شرکاء کو اعزازی شیلڈز بھی پیش کیں۔

Newspakistan.tv