تحریر: صاحبزادہ عتیق الرحمن
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں سفارتخانہ پاکستان کی طرف سے گزشتہ ماہ کو منعقد ہونے والا “پاکستان فرانس ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فورم” بظاہر ایک اہم سفارتی و تجارتی پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا۔
اس قسم کی تقریبات کا بنیادی مقصد نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ دینا ہوتا ہے بلکہ بیرونِ ملک موجود پاکستانی بزنس کمیونٹی کو قومی معاشی دھارے سے جوڑنا بھی ہوتا ہے۔ تاہم اس ایونٹ کے حوالے سے کئی ایسے سوالات جنم لے رہے ہیں جو محض وضاحت ہی نہیں بلکہ سنجیدہ جائزے کے متقاضی ہیں۔
سب سے پہلا سوال اس تقریب کے انعقاد کے مقام سے متعلق ہے۔ جب سفارتخانہ پاکستان کے مرکزی ہال میں اس نوعیت کی تقریب کے انعقاد کی مکمل گنجائش موجود تھی تو اسے بیرونی مقام پر منتقل کر کے بھاری اخراجات کیوں کیے گئے؟ ذرائع کے مطابق اس ایونٹ پر تیس ہزار یورو سے زائد رقم خرچ کی گئی، حالانکہ اس تقریب کا دورانیہ محض ڈیڑھ سے دو گھنٹے تھا۔ کیا یہ اخراجات واقعی ناگزیر تھے یا انتظامی فیصلہ سازی میں کسی قسم کی غیر ضروری وسعت اختیار کی گئی؟
دوسرا اہم پہلو شمولیت کا ہے۔ فرانس میں ایک منظم اور فعال پاکستانی بزنس کمیونٹی موجود ہے، جس میں کئی ایسے افراد اور ادارے شامل ہیں جو برسوں سے پاکستان کے ساتھ تجارت میں مصروف ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان میں سے بیشتر کو اس اہم فورم میں مدعو نہیں کیا گیا۔ پاکستان بزنس فورم فرانس جیسے رجسٹرڈ ادارے کی عدم شمولیت بھی سوالیہ نشان ہے۔ کیا یہ ایک دانستہ نظرانداز تھا یا رابطہ کاری میں کوئی بڑی کوتاہی؟
اسی طرح ایگرو فوڈ سیکٹر کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آئے ہیں کہ آیا اس فورم کو مخصوص افراد یا گروپس کے مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔ اگر ایسا ہے تو یہ نہ صرف شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ پاکستان کے وسیع تر تجارتی مفاد کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مزید برآں، اس تقریب میں شریک پاکستانی و فرانسیسی کاروباری افراد اور کمپنیوں کی مکمل فہرست تاحال منظرِ عام پر نہیں لائی گئی۔ شفافیت کا تقاضا ہے کہ ایسی معلومات عوام اور متعلقہ حلقوں کے ساتھ شیئر کی جائیں تاکہ اس فورم کی افادیت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
ایک اور تشویشناک پہلو پیرس میں تعینات کمرشل قونصلر کی کارکردگی سے متعلق ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ تقریباً آٹھ ماہ کے دوران انہوں نے مقامی پاکستانی بزنس کمیونٹی کے ساتھ کوئی باضابطہ ملاقات نہیں کی۔ یہ صورتحال اس وقت مزید افسوسناک ہو جاتی ہے جب کمیونٹی خود کو نظرانداز شدہ محسوس کرے۔
یہ تمام سوالات کسی ذاتی تنقید کے لیے نہیں بلکہ ایک بڑے مقصد کے تحت اٹھائے جا رہے ہیں: شفافیت، جوابدہی اور بہتر حکمرانی۔ اگر ہم واقعی پاکستان کی عالمی تجارتی ساکھ کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
اب یہ ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان سوالات کا واضح اور تسلی بخش جواب دیں تاکہ اعتماد بحال ہو اور مستقبل میں ایسی تقریبات حقیقی معنوں میں قومی مفاد کا ذریعہ بن سکیں ،
پیرس میں پاکستان فرانس ٹریڈ فورم تنازع کا شکار، قومی وسائل کے استعمال اور بزنس کمیونٹی کو نظر انداز کرنے پر شدید تنقید ہورہی ہے۔
فرانس میں پاکستان کے سفارتخانے کی جانب سے منعقدہ “پاکستان فرانس ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فورم” بدانتظامی، فضول خرچی اور کمیونٹی کو نظر انداز کرنے کی ایک واضح مثال بن کر سامنے آیا ہے، جس نے وزیراعظم کی کفایت شعاری پالیسی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس ایک تقریب پر تقریباً تیس ہزار یورو خرچ کیے گئے، جن میں سے بارہ ہزار یورو صرف پیرس کے ایک مہنگے ہوٹل میں ہال بک کرنے پر اڑا دیے گئے۔ حیران کن طور پر سفارتخانے کے پاس اپنا ہال موجود ہونے کے باوجود اسے استعمال نہیں کیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قومی وسائل کے ضیاع کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔
مزید برآں، فرانس میں مقیم پاکستانی تاجروں کی نمائندہ تنظیم “پاکستان بزنس فورم فرانس” کو تقریب میں مدعو نہ کیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تنظیم کے عہدیداران نے اس اہم فورم سے لاعلمی کا اظہار کیا، جسے تجارتی و سفارتی حلقے ایک بڑی کوتاہی قرار دے رہے ہیں۔
تجارتی و سفارتی ماہرین کے مطابق ایسے فورمز کا مقصد ہی بزنس کمیونٹی کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے، مگر یہاں بنیادی اسٹیک ہولڈرز کو نظر انداز کر کے ایک نمائشی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کی عملی افادیت تقریباً صفر دکھائی دیتی ہے۔

Newspakistan.tv

Sahibzada Ateeq is a Paris-based correspondent of Newspakistan.tv who covers diplomatic, political, social, art and cultural events in France.
